Pages

Thursday, August 1, 2013

میاں صاحب کا عشق ممنوع


باقی حصہ
 

رینٹل سے _ _ _تک


من پسند توہین عدالت


منیر اے ملک نے کہا کہ میرا بس چلے تو عدالت کو آگ لگا دوں جس طرح یہاں اب فیصلے ہو رہے ہیں اُس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں ہوا

علی احمد کرد نے کہا تھا کہ عدالت میں فرعون بیٹھ گیے ہیں مجھے افسوس ہیکہ ان کی بحالی کے لیے کردار ادا کیا وہاں چیف جسٹس نے توہین عدالت کا نوٹس نہیں دیا
 


اعتزاز احسن نے کہا کہ الیکشن کمشن ، سپریم کورٹ اور پاکستان مسلم لیگ نون ایک ہی ہیں ان تینوں نے مل کر ہمیں الیکشن سے اوٹ کیا وہاں توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں ہوا

فیصل رضا عابدی کی باتیں میں نہیں کہوں گا کیونکہ مجھے وہ دہراتے ہوے بھی شرم آتی ہے مگر وہاں توہین عدالت نہیں



ڈاکٹر دانش، مبشر لقمان ، عاصمہ جہانگیر اور ڈاکٹر شاید مسعود نے کیا کیا نہیں کہا عدالت کو مگر وہاں توہین عدالت نہیں

عمران خان نے یہی کہا تھا نہ کہ عدالت کے لیے ہم نے بہت جدوجہد کی عدالت سے بہت توقعات تھی مگر عدالت نے مایوس کیا۔ اس میں کیا غلط تھا کیا الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی ہر جگہ پر ووٹ پولنگ اسٹشنز کے باہر سے ملے اور وہاں سب لوہر کورٹ کے لوگ تھے جن کی یہ ذمہ داری تھی کہ الیکشن کو شفاف بنائیں مگر انھوں نے ایک پارٹی کے لیے کام کیا اور دھاندلی کے نئی مثال قائم کی

راجہ ظفر الحق صبع پٹیشن لے کر عدالت جاتے ہیں اور دوپہر کو اُس پر سنوائی ہوتی ہے اور اُسی دن اُن کے حق میں فیصلہ صادر ہو جاتا ہے اور فیصلے میں وہی تاریخ الیکشن کے لیے دی جاتی ہے جس کو ایک دن پہلے ن لیگ کی لیڈرشپ پرپوز کرتی ہے جبکہ دوسری طرف الیکشن کے دوسرے دن الیکشن میں دھاندلی کے خلاف درخؤاست دی جاتی ہے مگر اُس پر آج تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی

عدالت نے این ار آو کے خلاف فیصلہ دیا اُس پر حکومت نے عمل نہیں کیا تو عدالت نے عمل درامد کمشن بنا دیا مگر دوسری طرف اسی عدالت نے اصغرخان کیس میں فیصلہ دیا جس پر عمل درامد نہیں ہوا تو عدالت خاموش کیونکہ اس دفعہ فیصلہ نون لیگ کے خلاف تھا

گستاخی معاف - ارسلان کیس

 گستاخی معاف
ارسلان کیس کا پوچھ کر 
کہیں توہین عدالت کا  مرتکب تو نہیں ہو گیا