Pages

Tuesday, November 22, 2011

پیار ہی پیار - Pyar hi Pyar


اداکار ببرک شاہ کو میں نے اخباری تصویروں کے علاوہ کہیں نہیں دیکھا البتہ وینا ملک کو میں ”جیو“ کے مقبول پروگرام ”ہم سب امید سے ہیں“ کی وجہ سے جانتا بھی ہوں اور مانتا بھی ہوں کہ اس کی پرفارمنس میں بلا کی برجستگی اور بے ساختگی ہے۔ 
وینا ملک کچھ عرصہ سے اس طرح خبروں میں ہے جیسے کبھی کسی زمانے میں وصی ظفر ٹائپ لوگ خبروں میں ہوتے تھے۔ خاص طور پر کرکٹر آصف اور اداکار ببرک شاہ کے ساتھ اس کے نجی معاملات میڈیا کا بارہواں مصالحہ بنے ہوئے ہیں۔ کبھی ایک اور کبھی دوسرے کے ساتھ وینا کی شادی کی خبریں مع تردیدوں کے چھپتی رہتی ہیں لیکن ان باتوں کی اس لئے کوئی اہمیت نہیں کہ اول یہ کوئی سیریس مسئلہ نہیں اور دوسری بات یہ کہ شوبز اور سکینڈلز کا تعلق ویسا ہی ہے جیسے انڈے کی زردی اور سفیدی کا یا چولی اور دامن کا یا ننگے گڑ اور مکھیوں کا یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ دونوں کا تعلق ایسا ہی ہے جیسے حکومت اور حماقت کا …سیاست اور خیانت کا … حنا ربانی کھر اور ہکلاہٹ کا یا لوٹوں اور بے ضمیری کا لیکن حال ہی میں ببرک شاہ نے کسی نجی ٹی وی پر وینا کے حوالے سے ایک بہت ہی دلچسپ انکشاف کیا ہے جس سے قومی اور بین الاقوامی سیاست کی بو بھی آ رہی ہے۔ ببرک شاہ نے کہا 
”میں نے وینا پر تشدد نہیں کیا، پیار سے تھپڑ مارے“
یہ تبصرہ سن کر طبیعت خوش ہو گئی اور مجھے امریکہ کی ”فرینڈلی فائرنگ“ بھی یاد آ گئی۔ امریکہ تو دور کی بات، اپنی حکومتوں کو ہی دیکھ لیں جو ”ببرک شاہ پالیسی“ پر عمل کرتے ہوئے عوام پر تشدد نہیں کرتیں … پیار سے تھپڑ مارتی ہیں جیسے آج کل شوگر یعنی چینی کے تھپڑوں کی گونج پورے پاکستان میں سنائی دے رہی ہے۔ 
”پیار بھرے دو شرمیلے نین“ تو سنے تھے … ”پیار بھرے دو بول“ بھی کوئی نئی بات نہیں لیکن پیار بھرے تھپڑ ایجاد کر کے اداکار ببرک شاہ نے پیار اور مار کی تاریخ میں جو نیا باب رقم کیا ہے، جو نیا ”ایکسپریشن“ ایجاد کیا ہے اس پر اسے کم از کم … تمغہ حسن کارکردگی ضرور ملنا چاہئے۔ 
رمضان کے مقدس مہینے میں تاجر برادری بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ جو کچھ کرے گی بلکہ کر رہی ہے اسے بھی تشدد نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ تو دراصل وہ پیار بھرے تھپڑ ہیں جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے پچکے ہوئے گالوں پر اس لئے رسید کرتا ہے تاکہ اس کے گالوں میں مناسب اور صحت مند ابھار پیدا ہو سکے یا اس کے فاقہ زدہ زرد گالوں پر وہ سرخی پیدا کی جا سکے جو کھاتے پیتے لوگوں کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ 
سچ تو یہ ہے کہ ببرک شاہ کی اس ”دریافت“ نے میری دنیا ہی بدل دی ہے ورنہ اس سے پہلے میں اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ ہماری پوری قوم ایک دوسرے پر تشدد میں مشغول ہے اور جس کے پاس جتنی طاقت ہے وہ دوسروں پر اسی قدر تشدد روا رکھے ہوئے ہے لیکن اصل بات یہ سمجھ آئی کہ یہ سب تشدد کے مظاہرے نہیں بلکہ قوم محبت و اخوت کے جذبوں سے سرشار ہو کر آپس میں پیار بھرے تھپڑوں کا تبادلہ کر رہی ہے۔ عشق و محبت میں شرابور تھپڑوں کے اس ایکسچینج کا ہی تو کمال ہے کہ پورا ملک مزے میں ہے۔ 
شاعر نے کہا تھا 
آج سارے چراغ گل کر دو 
آج اندھیرا بہت مقدس ہے 
ماشاء اللہ محبت کا کرشمہ دیکھئے کہ پورے ملک پر مقدس اندھیرا چھایا ہوا ہے اور سارے چراغ گل ہو چکے۔ 
لکڑی کے لئے دیمک اور لوہے کے لئے زنگ اتنا خطرناک نہیں جتنی خطرناک شوگر کی بیماری ہے سو چینی کی گرانی بھی اقتصادی تشدد کی کوئی قسم نہیں، پیار بھرے تھپڑوں کی عنایت ہے کہ اب … ”نہ چینی ہو گی نہ چینی ہو گی“ یعنی نہ چینی ہو گی نہ شوگر کی نوبت آئے گی … غیرت مند لیڈر صحت مند قوم! 
اور وہ جو عظیم صوفی شاعر نے کہا تھا علموں بس کریں اولاً تو قوم کو علم سے محروم رکھنا اور اس شعبہ کے لئے مسخروں جیسا بجٹ مختص کرنا بھی علمی تشدد نہیں… درحقیقت وہ پیار بھرا تھپڑ ہے جو صوفی شاعر کی ہدایت پر 18 کروڑ عوام کے 36 کروڑ گالوں پر اپنے محبت بھرے نشان دکھا رہا ہے۔ 
کچھ اور ہو نہ ہو یہ بات طے سمجھیں کہ پاکستان پیار بھرے تھپڑوں کے معاملے میں پوری طرح خود کفیل ہے۔ وکلاء کا میڈیا کے ساتھ تعلق بھی تشدد کا نہیں پیار بھرے تھپڑوں کا ہے جسے کچھ لوگ خوامخواہ سکینڈلائز کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں لاہور کی مال روڈ پر عوام اور پولیس کے درمیان بھی پیار بھرے تھپڑوں کی نئی داستان لکھی گئی جس میں کچھ پیار بھری لاٹھیاں، مکے اور ٹھڈے بھی شامل تھے۔ 
یہاں جو کچھ بھی ہے امریکہ کی ”فرینڈلی فائرنگ“ اور ببرک شاہ کے تھپڑوں کی طرح پیار بھرا ہے۔ 
سقوط ڈھاکہ … پیار بھرا سقوط تھا۔ 
بھٹو کی پھانسی …پیار بھری پھانسی تھی۔ 
ضیاء الحق کے کوڑے … پیار بھرے کوڑے تھے۔ 
ملک کے ہاتھ کا کشکول … پیار بھرا کشکول ہے۔ 
پرویز مشرف کی آمریت … پیار بھری طبلہ نواز آمریت ہے 
اور آج کل کی جمہوریت بھی … پیار بھری جمہوریت ہے 
پورے پاکستان میں جدھر دیکھو پیار ہی پیار ہے جس کے حجم، وزن اور رفتار میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے! 

No comments:

Post a Comment